بنگلورو۔8؍دسمبر(ایس او نیوز) مرکزی حکومت کی طرف سے ہزار اور پانچ سو روپیوں کے نوٹوں پر پابندی پر آج ایک ماہ مکمل ہوگیا۔ ایک ماہ کے باوجود بھی بینکوں کے باہر لمبی لمبی قطاروں اور پیسوں کیلئے عوام کی جدوجہ میں کوئی کمی نہیں آپائی۔ روزانہ دو ہزار روپے ہی سہی حاصل کرنے کیلئے ملک کی تمام بینکوں کے باہر قطاریں طویل تر ہوتی جارہی ہیں۔اب تک پیسوں کے انتظار میں بینکوں اور اے ٹی ایمس کے باہر 100افراد کی جانیں تلف ہوچکی ہیں۔ قطاروں میں گھنٹوں انتظار کے بعد جب لوگوں کو بینکوں میں داخل ہونے کا مرحلہ آتا ہے تو بینک کا عملہ ہر دن بدلنے والا کوئی نہ کوئی ضابطہ بتاکر لوٹا دیتا ہے یا پھر یہ تختی چسپا ن کردی جاتی ہے کہ بینک میں نقدنہیں۔ دن بدن صورتحال میں بگاڑ کے علاوہ کچھ نہیں ہوپارہا ہے۔ لوگوں کو مرکزی حکومت کے اس اقدام اور امیروں سے بینکوں کی ملی بھگت کو کوستے دیکھا جارہاہے۔ بینکوں کی طرف سے عدم تعاون کے سبب پہلے ہی پرانے نوٹوں کی تبدیلی کا مرحلہ ادھورا رہ گیا، حالانکہ نوٹ بندی کے مرحلے میں وزیراعظم مودی نے کہا تھا کہ 31 دسمبر تک پرانے نوٹ بدلے جاسکیں گے، لیکن درمیان میں ہی حکومت نے یوٹرن لیتے ہوئے نومبر کی شروعات میں ہی نوٹوں پر پابندی لگانے کے آٹھ دس دنوں کے اندر بینکوں میں نوٹوں کے تبادلوں کا سلسلہ بند کردیا۔ جبکہ بعض مقامات پر پانچ سو روپیوں کے نوٹ استعمال کرنے کی جو اجازت دی گئی تھی، 2 دسمبر کو ختم ہوگئی۔اب پرانے نوٹ جو بھی ہیں انہیں صرف بینکوں میں ہی جمع کرایا جاسکتا ہے۔ محکمۂ مالیات نے بتایاکہ ریزرو بینک کے اعداد وشمار کے مطابق ملک بھر کے تمام بینک کھاتوں میں 6دسمبر کی شام تک 11.5لاکھ کروڑ روپے پرانے نوٹوں کی شکل میں جمع کئے جاچکے ہیں۔ مرکزی حکومت کا یہ اندازہ تھاکہ بینکوں میں 6تا7 لاکھ کروڑ روپیوں کی رقم جمع ہوسکتی ہے۔ اسی مقصد کے تحت ریزرو بینک آف انڈیا نے چار لاکھ کروڑ روپیوں کے نئے نوٹ بازار میں جاری کئے، لیکن عوام کی طرف سے 11.5لاکھ کروڑ روپے بینکوں میں جمع کردئے جانے کے سبب ریزرو بینک آف انڈیا بھی صورتحال سے نمٹنے میں بے بس نظر آرہی ہے۔چلر کی کمی کے سبب زیادہ تر دو ہزار روپیوں کے نوٹ استعمال ہی نہیں ہوپارہے ہیں۔بینکوں کی طرف سے آر بی آئی پر یہ زور دیا جارہاہے کہ جلد از جلد پانچ سو روپیوں کے نوٹ نکالے جائیں۔